Showing posts with label Beautiful Urdu Poetry. Show all posts
Showing posts with label Beautiful Urdu Poetry. Show all posts

Saturday, 7 July 2018

اپنے لیے ہی جینا ہے تو ضرور جئیں

گر
اپنے لیے ہی جینا ہے تو ضرور جئیں
کیونکہ یہ آپکا بنیادی اور اصولی حق ہے
لیکن پھر پہلے آپکو اشرف المخلوقات کا خطاب واپس کرنا پڑے گا 

😓
No automatic alt text available.

Urdu Poetry $

                             Urdu Poetry $


Image may contain: text

Tuesday, 26 June 2018

کڑاکے دار گرمی ہے۔


کڑاکے دار گرمی ہے۔
پرسیپشن اور پراپیگنڈے کے لحاف، رضائیاں اور کمبل اتار کر فکروشعور کے ننگ دھڑنگ وجود کے ساتھ برہنہ حقیقتوں کا سامنا کریں تو سخت گرم موسم میں دسمبر کی یخ بستہ ہواؤں سے طاری ہونے والی کپکپی نصیب ہوتی ہے۔
کسی طاقتور کرپٹ کا آج کے دن تک کوئی عملی احتساب نہیں ہوا (میڈیا کا شور، عدالتوں سے بلند ہوتے احتسابی نعرے اور لوگوں کی توقعات محض پرسیپشن اور پراپیگنڈے کو تقویت دیتی ہیں)۔
حقیقت یہ ہے کہ جنہیں کرپٹ کہا جاتا ہے، اُن کا احتساب کسی دور میں نہیں ہوا۔ لوٹی ہوئی دولت کو واپس لانے کے خواب دکھا کر رائج نظام ہمیشہ اپنے دوام کی راہ ہموار کر لیتا ہے۔ لوٹی ہوئی دولت آج کے دن تک واپس نہیں لائی جا سکی۔ رائے عامہ کو کامیابی سے تقسیم کر کے حکومتوں کی تبدیلی کا عمل ممکن بنا لیا جاتا ہے۔ چہرے وہی رہتے ہیں۔ کرپشن کا ناسور جوں کا توں قائم رہتا ہے۔ چند مہرے ادھر سے اُدھر کھسک جاتے ہیں یا کھسکا لئے جاتے ہیں۔
یا تو وطن عزیز میں کوئی کرپٹ ہے ہی نہیں یا پھر مقتتدر حلقے نہیں چاہتے کہ بے لاگ احتساب ہو اور راز آشکار ہوں۔ لگتا یوں ہے کہ اس حمام میں چند ایسے طاقتور لوگ بھی ننگے ہیں جو اپنے وجود پر لباس کا بھرم قائم رکھنے کے لئے دیگر ننگِ معاشرہ افراد کو بہرحال این آراو سمیت فرار و نجات کے دیگر آپشنز دینے کے حامی ہیں۔
ملک بھر میں جس ذوق و شوق سے سیاسی جماعتوں کے بینرز، ہورڈنگز آویزاں ہیں، جس طرح قرآنی آیات کا استعمال ہو چکا ہے، اور جس طرح "ان شاءاللہ" لکھ کر ایم پی اے اور ایم این اے بننے کی امیدیں پالی جا رہی ہیں اس سے لگ یوں رہا ہے کہ اب اس کے بعد صبر اور برداشت کے بارودی ڈھیروں نے بس پھٹنا ہے۔ کب کیسے؟ اس کا تعین آنے والے لمحات کریں گے۔
دھن، دھونس اور دھاندلی کا شاید یہ آخری معرکہ ہے۔ لگ رہا ہے۔
بہت سے دانشور رائج نظام کو قائم رکھنے کے حق میں ہیں کیونکہ ان کے نزدیک اس کا کوئی متبادل موجود نہیں۔ یہی رائج نظام کی عیاری ہے کہ اس نے دستانے جمہوریت کے پہن رکھے ہیں ۔
چند سرپھرے لوگ جو اس رائج نظام کے خلاف کمربستہ ہیں، وہ دراصل اس رائج نظام کو جمہوریت نہیں سمجھتے۔ وہ اس ظلم کے نظام کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ سب ادارے اپنی اپنی حدود میں رہ کر کام کریں۔ کوئی کسی پر ظلم نہ کرے۔ کوئی دھوکہ نہ دے۔ عدالتیں ڈلیور کریں اور امیر و غریب کے لئے یکساں نظام عدل یقینی بنائیں۔ تعلیم و علاج کا نظام بہتر ہو۔ عام لوگوں کا احساس محرومی ختم ہو۔
اور جب ہم رائج نظام کے خلاف بولتے ہیں تو ہمیں طعنہ دیا جاتا ہے کہ ہم جمہوریت کے خلاف بولتے ہیں۔ رائج نظام کسی پہلو سے جموریت نہیں۔ یہ دورنگا نظام محض منافقت کو جنم دیتا ہے۔ ہر سطح پر منافقت کو عروج دیتا ہے۔ اس رائج نظام میں وہی آگے بڑھ سکتا ہے جو طاقتور ہے۔ جس کے پاس اختیار ہے۔ باقی سب محکوم۔
ہر باشعور انسان سمجھ رہا ہے کہ اب حبس بڑھ چکا ہے۔ لاوے ابل رہے ہیں۔ صبر اور برداشت کے بارودی ڈھیر پھٹنے کو ہیں۔ معاشرہ آٹوپائلٹ موڈ میں جانے کے قریب ہے۔ پھر کوئی کسی کے قابو میں نہیں ہو گا۔ جھوٹ بولنے والے دیوار کے ساتھ لگ چکے ہیں۔ دھوکہ دینے والوں کے آپشن ختم ہو رہے ہیں۔ لیکن پھر بھی وہ قائم باش ہیں۔ کہ شاید کہیں سے کوئی امید کی کرن جاگے اور وہ بچ جائیں۔ جھوٹ اپنا سب عروج دیکھ چکا۔ اسے اب مٹنا ہی ہے۔ بہت سے مقتدر افراد کی کوشش ہے کہ الوہی قاعدوں کو بدل دیا جائے۔ لیکن بہرحال الوہی قاعدے ہمیشہ سے اٹل ہیں۔ باطل کو دبنا ہی ہے۔ حق کو غالب آنا ہی ہے۔
رہی بات ہم عام لوگوں کی تو پہلی قوموں پر عذاب آ چکے۔ ہم خود ہی ظلم کا نظام قائم رکھنا چاہیں گے تو ہم پر بھی قہر ٹوٹیں گے۔ ازل سے یہی قاعدہ ہے۔
بسم اللہ کیجئے ۔ رکھیں قائم رائج نظام کو۔ اگلے پانچ سال پھر رونا نہیں۔ سڑکوں پر نہیں نکلنا۔ توڑ پھوڑ نہیں کرنی۔ اور اگر اس رائج نظام سے واقعی عاجز آ چکے ہیں تو ایماندار اور صالح کردار لوگوں کا انتخاب کریں۔ جو ہمیشہ عام لوگوں میں گھل مل کے رہتے ہیں۔ کسی فرعون صفت، قارون صفت اور ہامان صفت کو اپنے اوپر غالب رکھیں گے تو قصور آپ کا اپنا ہو گا۔
اللہ اکبر -


Islamic Urdu Poetry $




                                      Islamic Urdu Poetry $




                                                          Fellow my Site

دنیا میں جب کتابیں چھپنے کا رواج ہوا تو اس دور میں انسائکلوپیڈیا بھی چھپے.


دنیا میں جب کتابیں چھپنے کا رواج ہوا تو اس دور میں انسائکلوپیڈیا بھی چھپے۔ انسائکلوپیڈیا کا مطلب ایسی کتاب جس میں تمام ٹاپکس کے بارے میں انفارمیشن ہوتی ہے۔ یعنی یہ ایک بہت بڑی کتاب ہوتی ہے جس میں ہر ٹاپک کے بارے میں لکھا ہوا ہوتا ہے۔ اس میں اتنا زیادہ نہیں لکھا ہوا ہوتا کے ہر ٹاپک پر ایک پوری کتاب ہو مگر اتنا ضرور ہوتا ہے جسے پڑھ کے عام بندے کو سمجھ آ جائے کہ جس ٹاپک کے بارے میں وہ پڑھ رہا ہے وہ اصل میں ہے کیا۔
دنیا میں بڑے بڑے انسائیکلو پیڈیا میں  بریٹینیکا ، امیریکانا ، انکارٹا مشہور ہیں۔ پہلے پہل انسائیکلوپیڈیا کی بڑی بڑی کتابیں دس دس اور بیس بیس جلدوں پر مشتمل ہوتی تھیں۔ آجکل کے دور میں انسائیکلوپیڈیا آن لائن یعنی ویب سائیٹ کی شکل میں ہوتا ہے۔اور تمام ٹاپکس کو اپنے برائوزر جیسے گوگل کروم ، انٹرنیٹ ایکسپلورر وغیرہ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ کتابی شکل میں زیادہ نہ ہونے کو وجہ یہ بھی ہے کے ٹاپکس اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ ایک انسائیلوپیڈیا پر پچاس یا سو جلدوں کی کتاب چھپ جائے۔ ایسا صرف لائبریریوں میں ہو سکتا ہے ایک عام بندہ اتنا بڑا انسائیکلوپیڈیا اپنے پاس نہیں رکھ سکتا کیوں کہ یہ کتابی شکل میں بھت مہنگا ہو گا اور بہت زیادہ جگہ گھیرے گا۔ ہاں البتہ کمپیوٹر میں سی ڈی یا ڈی وی ڈی کی شکل میں اسے رکھا جا سکتا ہے۔ لیکن زیادہ تر آن لائن یعنی انٹرنیٹ پر برائوزر پر ہی استعمال کیا جاتا ہے۔
ایک مشہور انسائیکلو پیڈیا کا نام ویکی پیڈیا ہے۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا انسائیکلو پیڈیا ہے اور اس میں بے شمار ٹاپکس پر معلومات موجود ہیں۔ آپ اپنے برائوزر میں ویکی پیڈیا پر جا سکتے ہیں۔
                       اس انسائیکلو پیڈیا کا ایڈریس  یہ ہے۔

Urdu Poetry $



                                           Urdu Poetry $


Image may contain: 1 person, flower and text





                                              Urdu Poetry $


Islamic Urdu Poetry $


عورت میں ایک حد تک غرور ہونا اچھی بات ہے۔۔۔
ایسا غرور جو اسے راہ چلتے ہوۓ
ہر ایرے غیرے کو دیکھنے سے باز رکھے۔۔۔  




                                     

Image may contain: one or more people and outdoor



Urdu Poetry $




                                           Urdu Poetry $



No automatic alt text available.